حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 30 اکتوبر 2026ء کو گورآبادشاہ پور، جونپور اتر پردیش میں نماز جمعہ کے خطبے میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید علی عباس حائری نے تقویٰ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت تقویٰ کی عملی تفسیر ہے۔ آپ کی عبادت، ایثار، پاکیزگی، راست بازی اور حق کے دفاع میں استقامت ہر انسان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے سچی محبت کا تقاضا صرف آپ کے فضائل بیان کرنا نہیں، بلکہ آپ کی سیرت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانا ہے۔
انہوں نے اپنے خطبے میں کہا:أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالِاعْتِصَامِ بِالتَّقْوَى، اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی نصیحت کرتا ہوں۔
تقویٰ صرف یہ نہیں کہ انسان گناہوں سے پرہیز کرے، بلکہ تقویٰ یہ ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا معیار بنائے۔ اس کی عبادت میں اخلاص، گفتگو میں سچائی، لین دین اور معاملات میں انصاف اور مشکلات میں صبر و استقامت ہو۔
انہوں نے مزید کہا: ایامِ فاطمیہ کے موقع پر جب ہم تقویٰ کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظیم شخصیت ایک کامل نمونے کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔ آپ کی عبادت بندگی کا نمونہ، آپ کا ایثار اخلاص کی مثال، آپ کی پاکیزگی طہارت کا پیکر اور حق کے دفاع میں آپ کی جدوجہد استقامت اور حق شناسی کا بہترین نمونہ ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید علی عباس حائری نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ متقی انسان صرف اپنی نجات کی فکر نہیں کرتا، بلکہ دوسروں کی رہنمائی، معاشرے کی اصلاح اور حق و حقوق کے دفاع کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا: جب اپنے حق کے دفاع کا موقع آیا تو آپ نے قرآن اور دلیل کی بنیاد پر اپنا موقف پیش کیا۔ جب ایثار و قربانی کا وقت آیا تو اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دی اور جب عبادت کا موقع آیا تو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے دعا کی۔ یہی تقویٰ کی وہ عملی تفسیر ہے جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں پوری طرح نمایاں نظر آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے ہماری محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم صرف آپ کے فضائل و مناقب بیان کرنے والے نہ بنیں، بلکہ آپ کی سیرت پر عمل کرنے والے بھی بنیں۔
حجۃ الاسلام حائری نے کہا: ہماری نماز میں آپ کی بندگی، ہمارے اخلاق میں آپ کی پاکیزگی، ہمارے معاملات اور لین دین میں آپ کی سچائی اور ہمارے معاشرے میں آپ کا ایثار اور دوسروں کے لیے جذبۂ خدمت نمایاں ہونا چاہیے۔ کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ کی سیرت کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں۔










آپ کا تبصرہ